اسرائیلی حکومت کی جانب سے پاکستان میں ہونے والے مذاکرات کو بڑی حد تک نظرانداز کیا جا رہا ہے کم از کم عوامی سطح پر تو یہی تاثر لیا جا رہا ہے۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو شروع ہی سے ان مذاکرات کے حق میں نہیں تھے۔ ان کی خواہش امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے جاری رکھنا تھی۔
انھیں عالمی سطح پر بے چینی بڑھنے کے باعث یہ تاثر بھی ختم کرنا پڑا کہ وہ آخری لمحات تک صدر ٹرمپ کی جانب سے ایک عبوری جنگ بندی پر رضامند ہونے سے لاعلم تھے۔
اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان کسی فوری معاہدے پر اتفاق نہ ہونے پر اسرائیلی حکومت کی جانب سے کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا اگرچہ ایسا معاہدہ پہلے بھی کم ہی متوقع تھا۔
اس کے برعکس اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج کے سربراہ نے فوج کو ہائی الرٹ پر جانے کا حکم دیا ہے، ایسی سطح پر جو ماضی کی بڑی فوجی کارروائیوں سے قبل دیکھی گئی تھی۔
ہم نے اس بارے میں اسرائیلی فوج سے تصدیق کی درخواست کی ہے تاہم تاحال جواب موصول نہیں ہوا۔ البتہ یہ بیانیہ نیتن یاہو کے حالیہ بیانات سے مطابقت رکھتا ہے۔
چند روز قبل انھوں نے کہا تھا کہ انگلی ’ابھی بھی ٹریگر پر ہے‘ اور گزشتہ شب انھوں نے ایک بار پھر عزم ظاہر کیا کہ ایران کے ساتھ جنگ ختم نہیں ہوئی۔
اسی دوران اسرائیلی فوج لبنان پر بمباری جاری رکھے ہوئے ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔
بیروت کے حکام کے مطابق حالیہ ہفتوں میں ان کارروائیوں کے نتیجے میں دو ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

0 Comments