(ویب ڈیسک) عیدالاضحیٰ 2026 کی آمد کے ساتھ ہی پاکستان بھر کی مویشی منڈیاں ایک بار پھر سرگرمیوں کا مرکز بن گئی ہیں، ایک طرف خریداروں کا غیر معمولی رش دیکھنے میں آ رہا ہے تو دوسری جانب قربانی کے جانوروں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ عوامی توجہ کا باعث بنا ہوا ہے، اسی دوران کراچی میں شہریوں کی سہولت کے لیے نئے مویشی بازار قائم کرنے کی بھی اجازت دے دی گئی ہے۔
ملک کے بڑے شہروں کراچی، لاہور، فیصل آباد، ملتان، راولپنڈی اور پشاور کی مویشی منڈیوں میں روزانہ ہزاروں افراد قربانی کے جانور خریدنے کیلئے پہنچ رہے ہیں،منڈیوں میں صبح سے رات تک خریداروں کا رش برقرار ہے جبکہ قیمتوں میں اضافہ عام شہریوں کے لیے تشویش کا باعث بن رہا ہے۔
مہنگائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں، چارے کے اخراجات اور ٹرانسپورٹ مہنگا ہونے جیسے عوامل نے مجموعی طور پر جانوروں کی قیمتوں کو اوپر دھکیل دیا ہے جس کے باعث قربانی کا خرچ پہلے کے مقابلے میں بڑھ گیا ہے۔
متوقع قیمتیں
بکرا: 60 ہزار سے 2 لاکھ 50 ہزار
گائے: 2 لاکھ سے 7 لاکھ
بیل: 3 لاکھ سے 10 لاکھ
اونٹ: 4 لاکھ سے زائد
قیمتوں کا دارومدار جانور کے وزن، نسل، صحت، جسامت اور شہر میں طلب پر ہوتا ہے۔
مویشی منڈیوں میں صبح سے رات تک خریداروں کا ہجوم دیکھنے میں آ رہا ہے جبکہ زیادہ تر افراد شام کے وقت خریداری کو ترجیح دے رہے ہیں تاکہ بہتر انتخاب اور مناسب قیمت مل سکے۔
دوسری جانب بیوپاری دیہی علاقوں اور مختلف شہروں سے جانور لا کر فروخت کر رہے ہیں،سوشل میڈیا پر بھی خوبصورت اور صحت مند جانوروں کی ویڈیوز تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں، جس سے عوامی دلچسپی مزید بڑھ گئی ہے،بیوپاریوں کے مطابق صحت مند جانور تیار کرنا اب پہلے سے زیادہ مہنگا ہو چکا ہے۔
عوام کی بڑی تعداد کا کہنا ہے کہ اس سال قربانی کے جانور خریدنا پہلے کے مقابلے میں زیادہ مہنگا ہو گیا ہے،خاص طور پر متوسط طبقہ اس صورتحال سے زیادہ متاثر ہے، جس کی وجہ سے اجتماعی قربانی کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے۔ کچھ لوگ آخری دنوں تک انتظار کرتے ہیں، جبکہ بعض افراد آن لائن قربانی کی سہولت سے بھی فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
نوٹ؛یہ خبر صرف معلوماتی مقصد کے لیے ہے۔ قیمتیں اور انتظامات وقت اور جگہ کے مطابق تبدیل ہو سکتے ہیں اس لیے خریداری سے پہلے تصدیق ضرور کریں۔
0 Comments